Update
Loading...

Yaad Dehaani

🍂 یاد دہانی هذہ الدنیا بيت الركاب وأنت غريب یہ دنیا اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں کہ ایک مسافر خانہ ہے۔ اور مسافر خانوں میں کوئی آ کر اپنی زندگی نہیں بساتا، اپنے گھر نہیں بناتا۔ بلکہ مسافر خانوں میں رہنے کے لیے صرف مسافر ہی آیا کرتے ہیں اور مدتِ مقررہ کے بعد اپنے سفر کی اور کُوچ کر جاتے ہیں۔ اس سفر میں اسے کئ راہی ملتے ہیں جو کبھی اس کے کام آتے ہیں تو کبھی وہ ان کے کام آتا ہے۔ اس سفر میں کسی کی ذات کو ہم سے نفع پہنچ جائے تو الحمد للہ۔ پر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم مستقل اس کے سفر میں اس کے ساتھ رہیں۔ اس کے شریکِ سفر بن جائیں۔ بلکہ ہمیں تو اپنا کردار نبھانا ہے اور اپنی منزل کی اور سفر جاری رکھنا ہے۔ یہی بندہ مومن کی کہانی بھی ہے۔ وہ ایک مسافر کی حیثیت سے جیتا رہتا ہے دوسروں کو فائدے پہنچاتا ہے کچھ سے اسے مدد درکار ہوتی ہے پر اس کے لیے کچھ بھی مستقل نہیں ہوتا۔ بلکہ مستقل اور ابدی تو آخرت کا گھر۔ اور وہیں جا کر اس مسافر کو آرام ملنا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ: مجاہد نے کہا، ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ”دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔ صحیح بخاری#6416 اللہﷻ ہماری زندگیوں کو اپنی راہ میں قبول کرے اور اسے اس کی رضا میں گزارنے والا بنائے۔ آمین یا رب